Horror
all age range
2000 to 5000 words
Urdu
Story Content
اسمہ اپنے چھوٹے سے فلیٹ میں اکیلی رہتی تھی۔ اس کا فلیٹ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک پرانی عمارت میں واقع تھا۔
عمارت اگرچہ پرانی تھی لیکن اسمہ نے اسے بڑی محنت سے سجایا تھا۔ اس کے فلیٹ میں ہر چیز اپنی جگہ پر تھی، دیواروں پر خوبصورت پینٹنگز لگی تھیں اور فرش پر نرم قالین بچھے ہوئے تھے۔
اسمہ کو رات کے وقت پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اکثر رات دیر تک اپنی کتابوں میں گم رہتی تھی۔
ایک رات جب وہ اپنی کتاب پڑھ رہی تھی تو اس نے محسوس کیا کہ جب بھی وہ کمرے کی لائٹ بند کرتی ہے تو کمرے میں ایک عجیب سی خوشبو پھیل جاتی ہے۔
پہلے تو اس نے سوچا کہ شاید یہ اس کے پرفیوم کی خوشبو ہے جو ہوا میں تیر رہی ہے۔ لیکن پھر اسے احساس ہوا کہ یہ خوشبو تو ان لوگوں کی ہے جو کبھی روشنی نہیں دیکھ سکتے۔
وہ بہت ڈر گئی۔ اس نے دوبارہ لائٹ جلائی اور کمرے میں چاروں طرف دیکھا۔ لیکن اسے کچھ بھی نظر نہیں آیا۔
اس نے سوچا کہ شاید یہ اس کا وہم ہے۔ اس نے دوبارہ لائٹ بند کی اور وہی خوشبو پھر سے پھیل گئی۔ اس بار خوشبو پہلے سے زیادہ تیز تھی۔
اسمہ نے اپنی سانس روک لی۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی اس کے بالکل قریب کھڑا ہو۔
اس نے جلدی سے لائٹ جلائی اور کمرے میں چاروں طرف دیکھا۔ لیکن پھر بھی اسے کچھ نظر نہیں آیا۔
وہ بہت خوفزدہ ہو گئی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اب اکیلی نہیں رہے گی۔ اس نے اپنی دوست سارہ کو فون کیا اور اسے ساری بات بتائی۔
سارہ نے اسے تسلی دی اور کہا کہ وہ اس کے پاس آ رہی ہے۔
سارہ آدھے گھنٹے میں اسمہ کے فلیٹ پر پہنچ گئی۔ اسمہ نے دروازہ کھولا اور سارہ کو گلے لگا لیا۔
سارہ نے کہا کہ ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں۔ چلو پہلے چائے پیتے ہیں۔
دونوں سہیلیاں چائے پینے بیٹھ گئیں۔ اسمہ نے سارہ کو ساری بات بتائی کہ کس طرح جب وہ لائٹ بند کرتی ہے تو ایک عجیب سی خوشبو پھیل جاتی ہے۔
سارہ نے کہا کہ شاید تمہیں کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے۔ چلو آج رات ہم دونوں اکٹھے سوتے ہیں پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
دونوں سہیلیاں رات کو سونے کے لیے لیٹ گئیں۔ اسمہ بہت ڈری ہوئی تھی لیکن سارہ نے اسے حوصلہ دیا۔
اسمہم جیسے ہی لائٹ بند ہوئی وہی خوشبو کمرے میں پھیل گئی۔ اس بار سارہ نے بھی وہ خوشبو محسوس کی۔
سارہ نے جلدی سے لائٹ جلائی اور دیکھا تو کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ لیکن خوشبو اب بھی ہوا میں معلق تھی۔
سارہ نے کہا کہ یہ ضرور کوئی ماورائی چیز ہے۔ ہمیں کسی عامل کو بلانا چاہیے۔
اسمہم نے کہا کہ میں عاملوں پر یقین نہیں رکھتی۔
سارہ نے کہا کہ ہمیں کوئی اور حل نکالنا ہوگا۔
اگلی رات دونوں سہیلیاں پھر اکھٹے سوئیں۔ اس بار انہوں نے لائٹ جلائے رکھی۔ لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔
اگلی رات انہوں نے لائٹ بند کی اور وہی خوشبو پھر سے پھیل گئی۔
اس بار سارہ نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے ایک کیمرہ لیا اور اسے نائٹ ویژن موڈ پر سیٹ کیا۔ پھر انہوں نے لائٹ بند کر دی۔
جیسے ہی لائٹ بند ہوئی وہی خوشبو پھیلی اور کیمرے نے کمرے میں ایک دھندلی سی تصویر ریکارڈ کی۔
تصویر میں ایک عورت کی شکل نظر آ رہی تھی۔ عورت کے بال لمبے تھے اور اس نے سفید لباس پہنا ہوا تھا۔
اسمہم اور سارہ ڈر گئیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس عورت کے بارے میں معلومات حاصل کریں گی۔
انہوں نے عمارت کے مالک سے پوچھا کہ کیا اس عمارت میں پہلے بھی کوئی مرا ہے۔
مالک نے بتایا کہ اس عمارت میں کئی سال پہلے ایک عورت نے خودکشی کر لی تھی۔ اس کا نام لیلیٰ تھا۔
لیلیٰ ایک جوان اور خوبصورت لڑکی تھی جو ایک امیر آدمی سے پیار کرتی تھی۔ لیکن آدمی نے اس سے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ لیلیٰ نے غم سے مجبور ہو کر اپنی جان لے لی۔
اسمہم اور سارہ سمجھ گئیں۔ وہ خوشبو لیلیٰ کی تھی۔
انہوں نے لیلیٰ کی روح کو سکون دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ایک مولوی صاحب کو بلایا اور ان سے دعا کروائی۔
دعا کے بعد وہ خوشبو غائب ہو گئی۔ اسمہم اور سارہ نے سکون کا سانس لیا۔
لیکن کیا واقعی وہ خوشبو ہمیشہ کے لیے غائب ہو گئی تھی؟
اسمہم ایک دن اپنے فلیٹ میں اکیلی بیٹھی تھی۔ اس نے لائٹ بند کی اور کمرے میں پھر وہی خوشبو پھیل گئی۔
لیکن اس بار اسمہم ڈری نہیں وہ مسکرائی اور کہا، "میں تمہیں سمجھتی ہوں لیلیٰ۔"
کہانی یہاں ختم ہوتی ہے۔ لیکن کیا یہ واقعی اختتام ہے؟